خزاں کے پھول کی صورت بکھر گیا کوئی
تجھے خبر نہ ہوئی اور مر گیا کوئی
ہوا نہ تھا پر ہواؤں سا بے خبر تھا وہ
مجھے بٹھا کے سرِ رہ گزر، گیا کوئی
گریز میں وہ توجہ کا رنگ کیسا تھا
اِس اِک سوال سے دامن کو بھر گیا کوئی
اسے گماں ہی نہ تھا جیسے میرے ہونے کا
مِرے قریب سے یُوں بے خبر گیا کوئی
غمِ حیات کے رستے عجیب تھے امجدؔ
کسی نے رُک کے نہ دیکھا، کدھر گیا کوئی
No comments:
Post a Comment